Share

وزیر اعظم مودی کے استقبال میں ممتا نے تہذیب و آداب کا مظاہرہ کیا

کولکتہ:نریندر مودی نے تو بطور وزیراعظم مغربی بنگال کے اپنے پہلے دورے پر ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سے صرف آداب نبھانے کی توقع کی ہوگی، لیکن دیدی نے تو مودی کے لئے گویا رشتوں کے بند دروازے ہی کھول دئے. ہفتہ کو وزیر اعظم کے مغربی بنگال پہنچنے پر ممتا کے مراثم اس بات کے ثبوت دے رہے تھے کہ دونوں کے درمیان دوریاں مٹ چکی ہیں. گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات کے دوران دونوں کے درمیان تلخیاںبڑھیں تھیں جو بعد میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان اہم کی لڑائی کے طور پر سامنے آئی، اب ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں. اب دیدی کے منہ سے مودی کے لئے تلخی کے الفاظ کی جگہ تعاون اور مدد جیسے الفاظ سنے جا سکتے ہیں.

mamata-banerjeeہفتہ کو نجرول فورم پر پروگرام سے پہلے مودی اور ممتا کے درمیان گھنٹے کی پرائیویٹ میٹنگ نے سب کو حیران کر دیا، کیونکہ یہ میٹنگ پہلے سے فکس نہیں تھی. ممتا میٹنگ کے بعد مودی کے ساتھ پلیٹ فارم پر نظر آئیں. یہ پہلا موقع تھا جب مودی اور ممتا عوامی طور پر ساتھ نظر آئے. بعد میں دونوں نے راجبھون میں ساتھ ساتھ چائے ناشتہ بھی کیا. اتنا ہی نہیں اتوار کو وزیر اعلی وزیر اعظم کے ساتھ اسنسول بھی جائیں گی.

نجرول فورم پر مودی اور ممتا کے درمیان پاگل بات چیت ہو رہی تھی. بیچ بیچ میں دونوں مسکرا بھی رہے تھے. جب سی ایم ممتا بنرجی نے ریاست کے کئی پنچایتوں میں بینک نہ ہونے کی شکایت کی تو وزیر اعظم نے کہا کہ، ‘میں ان سے (ممتا سے) متفق ہوں. یہ مسئلہ 60 سالوں سے بنی ہے. انہوں نے یہ مسئلہ میرے سامنے اٹھایا کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ میں اس کا حل کر سکتا ہوں. ‘

ناظرین نے بھی یہ دیکھا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے درمیان تلخی ختم ہوئی ہے اور تعاون اور ترقی کی باتیں ہو رہی ہیں. سی ایم روبی حکومت نے جب وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی تو یہی ممتا بنرجی نے روبی کا مذاق اڑایا تھا. لیکن، ہفتہ کو سر بدلتے ہوئے ممتا نے کہا، ‘ریاست اور مرکز کو کندھے سے کندھا ملا کر ملک کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے.’ ‘

معاملہ کسانوں کی قرض معافی کی ہو یا فصل انشورنس کا ہو یا پھر خاص پسماندہ علاقے گرانٹ فنڈ (بی آرجی ) کا ہو، حکومت کے لئے ریاست کا خالی خزانہ پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے. وزیر اعظم کو دئے سات صفحات کے اپنے مےمورےڈم میں ممتا ان تمام مرکزی منصوبوں کا ذکر کر چکی ہیں، جس میں مرکز نے فنڈ کی کٹوتی کی ہے. ممتا حکومت کو ان منصوبوں کو جاری رکھنے کے لئے مرکز سے مدد کی بھاری درکار ہے.

ممتا حکومت نے ان میں سے کچھ مسائل کو یو پی اے دو کی حکومت کے سامنے بھی اٹھایا تھا، جس میں ان کی پارٹی بھی شامل تھی. لیکن، اس وقت بات نہیں بنی تھی. اب دیدی پھانےشل فرنٹ پر مودی سے مدد کی امید لگائی ہوئی ہیں. یوں کہیں تو معاملہ پھر سے وہیں پہنچ گیا جب مودی نے بریگیڈ پریڈ گراو ¿نڈ میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مرکز میں بھی ویسا ہی تبدیلی کریں جیسا انہوں نے سال 2011 کے اسمبلی انتخابات میں ممتا کو اقتدار دی تھی.